
ہلکی باسا نووا سنتز، نرم گٹار اور پیانو، نرم پس منظر میں ہلکی پرسکون تھپتھپاہٹ۔ صبح کی ہوا میں میں نے اُٹھا دل میں ایک نغمہ چھپا ہوا تھا سفر وہ نسیم سی، نرم، جان لیوا زندگی نے مجھے سنبھالا، سچا ہر زخم نے آواز دی، خاموش مگر ایک اندرونی روشنی نے پیغام دیا رات کے سناٹے میں بھی ایک چمکتی راہ مسلسل، دل نے خواب سنوارا روشنی کا سفر، چمکے میرے اندر غم کی دیواریں ٹوٹیں، سامنے امید ہر زخم نے بانٹ دیا اپنے راز دل کی ہواؤں میں اُڑی سچائی کی آواز عزم نے مجھے سینچا، انسانیت کی دیواریں توڑیں انصاف کا سورج اُبھرا میرے اندر خاموشی فقط ایک آغوش تھی لیکن موسیقی نے چاہت جگائی تجربات نے راستہ دکھایا، دل نے سمجھا سکون یہ امید تھی، مقصد تھا، یہ انسان ہونے کا سبق میں نے سنا ان آوازوں کو جو خاموش تھیں کچھ نہیں رکھا چھپایا، ہر راز کو کھولا روشنی کا سفر، دوبارہ کے واسطے یہ گیت میری دعا، میری راحت، میرا بہاؤ میں اس اندرونی روشنی کو زندہ رکھتا یہی میرا سفر، یہ میری روشنی ہے “روشنی… کا سفر…”

