[Verse] نہ نظر ملی نہ زباں ہلی دل کی باتیں دل میں دبی رہیں چاند رات کا وہ حسین لمحہ یونہی خواب بن کے مٹی رہیں [Verse 2] خاموشیاں تھیں اور دل کا شور چاہتوں کا کھیل تھا کچھ اور لب ہلے نہ، لفظ تھے گم ہوا میں بکھرے درد کے چور [Chorus] یہ کیسا سفر، یہ کیسی کہانی نہ ملا سکون، نہ کوئی نشانی دل کا راز، جو رہا چھپا یونہی سر جھکا کے گزر گئے [Bridge] راستے بدلتے گئے بار بار دل میں جگاتے رہے انتظار اندھیروں میں چھپا وہ ایک خواب روشنی بن کے بھی نہ آیا بہار [Verse 3] دھوپ سہہ کے چلے ہم رات بھر چاندنی میں بھی تھی دل کی کسر کہانی ادھوری، خواب ادھورے ہم سفر میں تھے، مگر تھے بکھر [Chorus] یہ کیسا سفر، یہ کیسی کہانی نہ ملا سکون، نہ کوئی نشانی دل کا راز، جو رہا چھپا یونہی سر جھکا کے گزر گئے


