[Instrumental Intro] [Memorable Piano and Acoustic Guitar Theme] [Mukhra] میں نے دیکھا ہے تُمہیں خواب میں آج کیا کروں مِلنے کی طلب ہو رہی ہے آج [Musical Turn] [Antara] تُم ہو کہ کبھی مُڑ کر بھی نہیں دیکھا نہیں مِلنا تو پھر بات ہی کر لے آج سُنو اب ختم کر دو بے رُخی کی باتیں دل یہ میرا بَہُت اُداس ہے آج [Mukhra] میں نے دیکھا ہے تُمہیں خواب میں آج کیا کروں مِلنے کی طلب ہو رہی ہے آج [Instrumental Interlude] [Antara] تُو نے ستمگری کی ساری حدیں مِٹا دیں میں تو لمحہ لمحہ تڑپ رہا ہوں آج دل کو میں لاکھ سَمْجَھاتا ہوں پھر بھی دَھڑکَنُوں میں بے کلی بَہُت ہے آج [Emotional Rise] [Bridge] ہوں میں بے چین تیرے لیئے رُوبی تُو کہاں کھو گیا بس یہ بتا دے آج [Final Mukhra] میں نے دیکھا ہے تُمہیں خواب میں آج کیا کروں مِلنے کی طلب ہو رہی ہے آج کیا کروں مِلنے کی طلب ہو رہی ہے آج [Instrumental Resolve] [End]