[Instrumental Intro] [Haunting Piano and Violin Theme] [Mukhra] وصل کی رات رہی پھر بھی ہِجر چھایا تھا وہ تو محفل میں کِسی غیر کے سنگ آیا تھا کیسے بے تاب نگاہوں کو سکوں مِل جاتا اُسکے پہلو میں کوئی اور ہی سمایا تھا [Instrumental Turn] [Antara] ٹوٹ کر دل میرا بِکھرا ہوا ریزہ ریزہ اب تلک تُو ہی تُو ہستی پے میری چھایا تھا کیا کروں میں دلِ نادان سمجھتا ہی نہیں سامنے تھا مگر وہ لگ رہا پرایا تھا [Mukhra] کیسے بے تاب نگاہوں کو سکوں مِل جاتا اُسکے پہلو میں کوئی اور ہی سمایا تھا [Instrumental Interlude] [Emotional Peak] آرزوؤں نے بھی دم توڑ دیا تھا رُوبی اُس نے جاتے ہوئے نہیں ہاتھ بھی ہلایا تھا [Final Mukhra] وصل کی رات رہی پھر بھی ہِجر چھایا تھا وہ تو محفل میں کِسی غیر کے سنگ آیا تھا کیسے بے تاب نگاہوں کو سکوں مِل جاتا اُسکے پہلو میں کوئی اور ہی سمایا تھا [Instrumental Resolve] [End]