اندھیری راتوں میں، سنسان راہوں پر، تنہا میں چلتا ہوں، خیالوں کی باہوں پر۔ چاند کی مدھم روشنی، تاروں کی چمک، دل کی وادیوں میں، خاموشی کی دھمک۔ یادیں بُلاتی ہیں، ماضی کے گیت، دل کی گہرائیوں میں، چھپے ہوئے ریت۔ اندھیری راتوں میں، خوابوں کی سرگوشی، غموں کی بانہوں میں، ہوتی ہے روشنی۔ اندھیری راتوں میں، سنسان راہوں پر، تنہا میں چلتا ہوں، خیالوں کی باہوں پر۔ چاند کی مدھم روشنی، تاروں کی چمک، دل کی وادیوں میں، خاموشی کی دھمک۔ رستے ویران ہیں، سایے بھی پریشان ہیں، دل کی دھڑکنیں، جیسے کوئی طوفان ہیں۔ آہٹ سی آتی ہے، کوئی بلاتا ہے، تنہائی کے عالم میں، دل جھوم جاتا ہے۔ اندھیری راتوں میں، سنسان راہوں پر، تنہا میں چلتا ہوں، خیالوں کی باہوں پر۔ چاند کی مدھم روشنی، تاروں کی چمک، دل کی وادیوں میں، خاموشی کی دھمک۔ یادوں کی بارش میں، بھیگتا ہوں ہر پل، غموں کی گرمی میں، جلتاہوں جل تھل۔ اندھیری راتوں میں، امید کی کرن، دل کی دنیا میں، جینے کا ہو چلن۔ اندھیری راتوں میں، سنسان راہوں پر، تنہا میں چلتا ہوں، خیالوں کی باہوں پر۔ چاند کی مدھم روشنی، تاروں کی چمک، دل کی وادیوں میں، خاموشی کی دھمک۔ صبح کی کرنیں جب، بکھریں گی جہاں پر، خوابوں کے یہ لمحے، رہ جائیں گے وہاں پر۔ اندھیری راتوں میں، جو گزر گیا، وہی میرا اپنا، حقیقت کا سایہ۔ اندھیری راتوں میں، سنسان راہوں پر، تنہا میں چلتا ہوں، خیالوں کی باہوں پر۔ چاند کی مدھم روشنی، تاروں کی چمک، دل کی وادیوں میں، خاموشی کی دھمک۔