
[Verse] کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی دَر بدر [Verse 2] غمِ عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے [Chorus] تیرے پیار کی ایک ایسی ادا جیسے خوابوں کا ہے سلسلہ [Verse 3] لمحہ لمحہ یاد آئے گا یہ سفینہ کون بھلائے گا [Bridge] تیرے بن یہ دل نہ رہے خود کو ہم کیسے سنبھالے [Verse 4] غم کی شام میں جیا کریں تیری یادوں میں کھویا کریں

