[Verse] دل کا حال سنانا ہے خاموشی کا یہ ہجر کب تک تنہائی میں کیوں رہتے ہو بات کرو کچھ کہو عشق کا حق [Verse 2] خاموشی کو توڑو اب خاموشی سے کچھ نہیں ملتا باتیں کرو کچھ گرمی سی خوابوں کا قافلہ چلتا [Chorus] ملو نہ تم تو ہم گھبرائے خدا کے واسطے ہم نہ جائیں یاد کرو وہ لمحے دلکش دل کی یادگاریں وہ سمائیں [Verse 3] راتوں کا حال سناؤں اندھیرے میں کیوں کھویا ہو روشن کرو خوابوں کی دنیا لمحوں میں کچھ چمک کہو [Verse 4] تمہاری یاد کا بوجھ اٹھائے خدا کے واسطے ہم نہ جائیں دل کی دنیا کچھ کہتی ہے نہ خالی ، نہ بسائیں [Chorus] ملو نہ تم تو ہم گھبرائے خدا کے واسطے ہم نہ جائیں یاد کرو وہ لمحے دلکش دل کی یادگاریں وہ سمائیں