
[Verse] آج آسمان میں بڑا نور ہے چاند کو بھی خود پر غرور ہے ہم کس پر غرور کریں مرشد ہمارا تو چاند ہی ہم سے دور ہے [Verse 2] تاروں نے بھی آج دل کھول دیے رات کے گہرے راز بول دیے ہماری رات تنہا بے قرار ہے چاندنی بھی ہم سے آج بے نیاز ہے [Chorus] چاند کے پیچھے چھپے راز کیا ہیں کیوں ہمیں ستاروں میں انداز کیا ہیں محبت کی کہانی بس نامکمل ہے ہماری قسمت میں بھی کچھ کمزور پل ہے [Verse 3] ہوا میں بھی آج ایک رت جگا ہے چاند نے بھی ہم سے کچھ کہا ہے دل میں تمنا کوئی اور جاگتی ہے چاندنی میں بھی ایک شور اٹھتی ہے [Bridge] مرشد ہمارے دل کی یہ صدا کیوں ہے چاند ہم سے اتنا جدا رات بھر کی خاموشی ہمیں ستاتی ہماری آسیں سحر بھی نہ جگاتی [Chorus] چاند کے پیچھے چھپے راز کیا ہیں کیوں ہمیں ستاروں میں انداز کیا ہیں محبت کی کہانی بس نامکمل ہے ہماری قسمت میں بھی کچھ کمزور پل ہے

