
[تعارف – دھیمی گرج، تناؤ بڑھتا ہوا] محسوس کر… رینگتا ہوا… ابھر رہا ہے… [بلڈ اپ – سرگوشی] جاگ اُٹھ… جاگ اُٹھ… جاگ اُٹھ… [ورس 1] زمین — پہ — گر — دباؤ محسوس کر ہڈی — ٹوٹ — جائے — نہ ہار مان دل — کے — اندر — کچھ بدلتا اب — یہ — غصہ — جاگتا دبا — کے — رکھ — نہ رکے گا قید — کے — اندر — پھٹ پڑے گا ہر — سانس — آگ بڑھائے اب — میں — اور — بلند [پری کورس] تم نے دفن کرنا چاہا مجھے اب اپنے ہی انجام سے ڈرو [کورس] میں ہوں آتش فشاں تمہارا ہر بندھن توڑ دوں نہ زنجیر — نہ حد کوئی سب کچھ میں نگل لوں میں ہوں ٹکراؤ روح تک ہلا دوں نہ رحم — نہ وارننگ اب سب کچھ میرا [چینٹ] آہ — آہ — جاگ اُٹھ آہ — آہ — پھاڑ دے آہ — آہ — جلنے دے مڑنے دے — بکھرنے دے آہ — آہ — کوئی قابو نہیں آہ — آہ — خود کو کھو آہ — آہ — زمین ہلا جنگ سن — آواز سن [ورس 2] جلد — چاک — ابھرتا غصہ آگ — لہو — کوئی پردہ نہیں دماغ — ٹوٹ — اب انتظار نہیں اب — درندہ — جاگ گیا ہر — زخم — نفرت بنے ہر — جھوٹ — انجام لکھے کوئی — فرار — اب نہیں آج — میں — آزاد [پری کورس] تم نے آگ کو خود جلایا اب کہیں بھی چھپ نہ پاؤ گے [کورس] میں ہوں آتش فشاں تمہارا ہر بندھن توڑ دوں نہ زنجیر — نہ حد کوئی سب کچھ میں نگل لوں میں ہوں ٹکراؤ روح تک ہلا دوں نہ رحم — نہ وارننگ اب سب کچھ میرا [بریک ڈاؤن] (سرگوشی) تم یہی چاہتے تھے… (گہری آواز) تم نے ہی بنایا… (چیخ) اب انجام بھگتو! [ہیوی بریک ڈاؤن] توڑ — دوں — تجھے رونددوں — زمین نہ — رحم سن — یہ — شور توڑ — دوں — تجھے کھینچ — لوں — نیچے میں — بنوں — گرج [برج] اندر — سب اُبلتا اب — نہ — رکتا نظام — بکھرتا اب — پھٹتا اندر — طوفاں خاموشی — ختم میں — خود — آگ میں — خود — شعلہ [آخری کورس] میں ہوں آتش فشاں تمہارا ہر بندھن توڑ دوں نہ زنجیر — نہ حد کوئی سب کچھ میں نگل لوں میں ہوں ٹکراؤ روح تک ہلا دوں نہ رحم — نہ وارننگ اب سب کچھ میرا [اختتامی چینٹ] آہ — آہ — جاگ اُٹھ آہ — آہ — پھاڑ دے آہ — آہ — جلنے دے مڑنے دے — بکھرنے دے آہ — آہ — کوئی قابو نہیں آہ — آہ — خود کو کھو آہ — آہ — زمین ہلا میں ہوں جنگ — میں ہوں آواز [اختتام – دھیمی گرج] آتش فشاں…

