[Verse] پھر تتلیاں سی اڑنے لگیں دشت خواب میں خوابوں کا صحرا بھی ہوا شباب میں پھر خواہش وصال ہے اور چاند رات ہے ہر پل میں چھپی کوئی نئی بات ہے [Chorus] چاندنی راتوں میں گنگناتی ہوا خواہشوں کی حسین کہانی ہوا دل کی بیابانی میں باغ ہوا پھر سے زندگانی کا آغاز ہوا [Verse 2] نگاہوں میں خوابوں کے ستارے سے جلے لمحے یادوں کے کانٹے سے کٹے آنسو بھیگے پلکوں کی چادر میں چھپے چاندنی روشنی کی صراحی میں بھرے [Chorus] چاندنی راتوں میں گنگناتی ہوا خواہشوں کی حسین کہانی ہوا دل کی بیابانی میں باغ ہوا پھر سے زندگانی کا آغاز ہوا [Bridge] رات مدھم ساز تھا اور دل کا حال تھا خوابوں کے جزیرے میں پیار کا جمال تھا چاندنی کے جلو میں خوشیوں کا ہال تھا پیار کی فضاؤں میں عجیب سا کمال تھا [Chorus] چاندنی راتوں میں گنگناتی ہوا خواہشوں کی حسین کہانی ہوا دل کی بیابانی میں باغ ہوا پھر سے زندگانی کا آغاز ہوا


