
عنوان: اژدہا جاگ اٹھا [تعارف – خوفناک لوپ] آ جا… آ جا… رات گواہ… اوہ… یا اللہ… سانس میں آگ… شیر بن… اژدہا جاگ اٹھا… مت رک… مت جھک… (لوپ جاری رہے) ⸻ [ہک] یہ زندگی میری نہیں… مگر جنگ میری ہے… ہر زخم میری پہچان… ہر سانس میری للکار… اژدہا جاگ اٹھا… اژدہا جاگ اٹھا… میں نہیں رکوں گا… میں ہی جیتوں گا… ⸻ [پہلا ورس] گلی گلی میری آزمائش، ہر قدم نئی فرمائش۔ لوہے جیسا میرا ارادہ، دل میں جلتا اک شعلہ۔ آندھی آئے، طوفان آئے، میرے قدم نہ ڈگمگائیں۔ میری خاموشی بجلی بنے، میری نظر قسمت لکھے۔ رات نے مجھ کو تراشا، درد نے مجھ کو سنوارا۔ جو بھی مجھے کم سمجھا، وقت نے سب کو پکارا۔ ⸻ [پری ہک] مت رک… مت جھک… آگ بن… حق بن… (پس منظر لوپ) اژدہا… اژدہا… جاگ اٹھا… ⸻ [ہک] یہ زندگی میری نہیں… مگر جنگ میری ہے… ہر زخم میری پہچان… ہر سانس میری للکار… اژدہا جاگ اٹھا… اژدہا جاگ اٹھا… میں نہیں رکوں گا… میں ہی جیتوں گا… ⸻ [دوسرا ورس] میرا قلم بھی تلوار ہے، میرا لفظ بھی وار ہے۔ ہمت میری ڈھال بنی، ایمان میری دیوار ہے۔ جھکنا میری فطرت نہیں، رکنا میری عادت نہیں۔ پہاڑ بھی راستہ دیں گے، اگر نیت مضبوط رہی۔ میری آنکھوں میں بجلی، میرے لہجے میں آگ۔ میں خود اپنی قسمت، میں خود اپنا راگ۔ ⸻ [بریج – اسپوکن] تم نے مجھے توڑنا چاہا… ہر بار میں پہلے سے زیادہ مضبوط لوٹا… ہر اندھیرا… میرے اندر ایک نئی روشنی بن گیا… (لوپ) یا اللہ… اژدہا… جاگ اٹھا… مت رک… مت جھک… ⸻ [آخری ورس] میں دھواں نہیں، میں شعلہ ہوں۔ میں سایہ نہیں، میں سورج ہوں۔ میری دھڑکن اعلان ہے، میرا حوصلہ طوفان ہے۔ میں زمین سے اٹھا ہوں، اب آسمان میری شان ہے۔ ⸻ [آخری ہک] یہ زندگی میری نہیں… مگر جنگ میری ہے… ہر زخم میری پہچان… ہر سانس میری للکار… اژدہا جاگ اٹھا… اژدہا جاگ اٹھا… میں نہیں جھکوں گا… میں نہیں رکوں گا… میں ہی جیتوں گا… ⸻ [اختتام – فیڈ آؤٹ] آ جا… یا اللہ… اژدہا… جاگ اٹھا… مت رک… مت جھک… جیت… جیت… جیت… (آہستہ آہستہ ختم)

