
[آغاز] بسمِ دل، بسمِ جاں، تیرا نام ہر نفس میں ہے تیری ہی شان [بند ۱] میں نے در پہ تیرے سر رکھ دیا اپنا سب کچھ تری نذر کر دیا خالی ہاتھ آیا، بھرا لوٹوں گا تیری رحمت نے مجھ کو سنبھال لیا [ترجیع] یا مولا، یا مولا، دل کا سہارا یا مولا، یا مولا، تو ہی ہمارا [بند ۲] گردِ راہوں میں ملتی ہے روشنی تیری چوکھٹ پہ جھکتی ہے زندگی ٹوٹے دل کو صدا دے محبت تری خشک آنکھوں میں بھر دے نئی تازگی [ترجیع] یا مولا، یا مولا، دل کا سہارا یا مولا، یا مولا، تو ہی ہمارا [جوابی کورس] تو ہی امید، تو ہی قرار تیرا کرم بے شمار تو ہی امید، تو ہی قرار تیرا کرم بے شمار [بند ۳] نام تیرا لبوں پر رہے رات دن تیری یادوں سے مہکے مرا پیرہن جو بھی آیا ترے در سے محروم نہ تیری رحمت ہے دریا، نہیں ہے کفن [ترجیع] یا مولا، یا مولا، دل کا سہارا یا مولا، یا مولا، تو ہی ہمارا [اختتام] یا مولا، یا مولا تو ہی ہمارا تیرا نام، تیرا نام دل کا سہارا

