Song Cover Image

مہمان نہیں رونق محفل تھے

V3.5

[Verse 2] دن تھے سنہری راتیں چاندی سی حرف تھے مہکے رہ پہ باندھی سی پھول نہ خوشبو پھر بھی دل کہاں تھا یاد رہے گا کہ کوئی آیا تھا [Chorus] مہمان نہیں رونق محفل تھے نگاہوں میں کچھ آنسو کچھ ہنسی تھی گھر کے کونے کو مہکایا تھا یاد رکھو گے کہ کوئی آیا تھا [Verse 3] بیتے لمحوں کی حکایات سنی یادیں بھیگیں کچھجلتے ہی رہیں قصے بیتے پلوں کے سفر میں یاد رکھو گے کہ کوئی آیا تھا [Bridge] خواب محسوس مسافتوں میں خالی پلکوں پہ شبنموں میں کوئی کسک کوئی دھڑکن باقی یاد رکھو گے کہ کوئی آیا تھا [Chorus] مہمان نہیں رونق محفل تھے نگاہوں میں کچھ آنسو کچھ ہنسی تھی گھر کے کونے کو جلایا تھا یاد رکھو گے کہ کوئی آیا تھا