
میرے قدموں تلے جو آب گزرتا ہے آج کی تپش کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے سورج جو جھروکے سے زَر بکھیرتا ہے کنویں کو چھوتی ہوا اسے ٹھنڈا کر دیتی ہے پر جب میں اپنے آشیانے سے باہر نکلوں تو پانی میں تیری صورت ہی ڈھونڈوں ہوا بھی آ کے تیرا نام مجھے سناتی ہے اور میرے شانے پر تیرا لمس ٹھہر جاتا ہے اگرچہ تو رنجیدہ ہو اگرچہ تو گریہ میں ڈوبا ہو تب میں پھر لوٹ آتا ہوں اور آب سے اپنا چہرہ دھو لیتا ہوں صحرا میں بے سبب بھی بہت سا سبزہ اگ آئے اگرچہ وہاں کسی نے بیج نہ ڈالے ہوں

