Song Cover Image

Water Connect

+ Show full styles

میرے قدموں تلے جو آب گزرتا ہے آج کی تپش کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے سورج جو جھروکے سے زَر بکھیرتا ہے کنویں کو چھوتی ہوا اسے ٹھنڈا کر دیتی ہے پر جب میں اپنے آشیانے سے باہر نکلوں تو پانی میں تیری صورت ہی ڈھونڈوں ہوا بھی آ کے تیرا نام مجھے سناتی ہے اور میرے شانے پر تیرا لمس ٹھہر جاتا ہے اگرچہ تو رنجیدہ ہو اگرچہ تو گریہ میں ڈوبا ہو تب میں پھر لوٹ آتا ہوں اور آب سے اپنا چہرہ دھو لیتا ہوں صحرا میں بے سبب بھی بہت سا سبزہ اگ آئے اگرچہ وہاں کسی نے بیج نہ ڈالے ہوں