
[Verse] عشق بے گھر کرے عشق بے در کرے عشق کا سچ ہے کوئی ٹھکانا نہیں ہم جو کل تک ٹھکانے کے تھے آدمی آپ سے مل کے کیسے ٹھکانے لگے [Verse 2] چاند کو چھونے کی حسرت تھی دل میں تاروں کی دنیا میں سب خواب بکھرے آپ کی آنکھوں میں جب سے اُترے دل میں چراغاں اور راہیں سنورے [Chorus] عشق کا دریا ہمیں بہا لے گیا خواہشوں کی بُوند سینے میں چھپائے آپ کی باتوں میں جادو سا ہے رنگین لمحے ہم یوں چُرائے [Verse 3] خوابوں کی جھیل میں خوشبوئیں تیریں آسمان کی گود میں پلکیں بچھائیں آپ کے ساتھ ہو ہر پل ہمارا راتیں لبھائیں اور دن جگمگائیں [Bridge] لمحے بدلتے ہیں ہوا کے سنگ یادیں بُنتی ہیں ایک نیا رنگ آپ کی چاہت میں جینا یہ دل کسی اور راستے کا نہیں پل [Chorus] عشق کا دریا ہمیں بہا لے گیا خواہشوں کی بُوند سینے میں چھپائے آپ کی باتوں میں جادو سا ہے رنگین لمحے ہم یوں چُرائے

