
[Verse] پلکوں کی جھالر کو ہلکا سا جھٹکا ان دیکھی حقیقت کی تلاش ہے خاموش خواہش کی گہرائی میں جھانکا کہیں کھوئی ہوئی سا کی یہ سانس ہے [Verse 2] دل کی سرگوشی میں ہے کچھ افسانے جو لبوں سے کبھی بھی نا ہو پائے رہے خاموشی کی چادر میں لپٹے دیوانے جنت کے رنگ میں خود کو پائے رہے [Chorus] کوں کی جنبش سے کھولوں یہ خزانہ دل کی گہرائی میں جو بستی ہے کوں کی جنبش سے کھولوں یہ خزانہ دل کی گہرائی میں جو بستی ہے [Bridge] ہر نظریں جو ملتی ہر جذبے کی کہانی کہیں نامعلوم میں چھپی ہر نشانی دل میں جمی ہے جو ایک ننھی سی لو خوابوں کے پھولوں میں جو بستی ہو [Verse 3] چپکی راتوں میں کچھ سرگوشیاں ہیں ہوا کی لہروں میں کچھ یادیں ہیں پلکوں کی چھاؤں میں کچھ خوشیاں ہیں خوابوں میں بسی کچھ چاہتیں ہیں [Chorus] کوں کی جنبش سے کھولوں یہ خزانہ دل کی گہرائی میں جو بستی ہے کوں کی جنبش سے کھولوں یہ خزانہ دل کی گہرائی میں جو بستی ہے

