
[Verse] آپ کے بارے میں پوچھ بیٹھا کوئی کیا کہیں ہم سے کیا بدحواسی ہوئی کہنے والی جو تھی بات ہو نہ سکی بات جو تھی چھپانی بتانے لگے [Verse 2] تیرے عشق کا چرچا ہوا یار بھرے میں خاموشی بھی میرے حال سے ہار گئی کہنے والی جو تھی کچھ نہ کہہ سکے ہم آنکھوں کی نمی تیری یادوں میں ڈھل گئی [Chorus] باتیں وہی پرانی ہیں رنگ نئے سے تم تھے یا کوئی خواب تھا رات کے قصے دکھاتے تھے جو خواب ہم بھول نہ پائے گزر گئی رات بات دل کی بتانے لگے [Bridge] دل کی باتوں کا قصہ عجب تھا خاموشی کا سفر ایک سبب تھا ملنے کا تیرے وہ پہلا پہر تھا یادوں کا لمحہ ہر وقت کا ہڑبڑ تھا [Verse 3] یادوں کا ہجوم اور وہ گلیاں خوبصورتی وہ اور وہ بولیاں کہنے والی جو تھی، رہ نہ کہہ سکے گزر گئی رات، دل کی بات سننے لگے [Chorus] باتیں وہی پرانی ہیں رنگ نئے سے تم تھے یا کوئی خواب تھا رات کے قصے دکھاتے تھے جو خواب ہم بھول نہ پائے گزر گئی رات بات دل کی بتانے لگے

