
[Verse] یادوں کی بستی میں ہم جاتے ہیں خاموش لمحے کچھ کہتے ہیں رستہ بدل کے کبھی آ مل دل کے زخم پھر سے کھلتے ہیں [Chorus] باتیں وہی پرانی ہیں رنگ نئے سے تم تھے یا کوئی خواب تھا رات کے قصے دکھاتے تھے جو خواب ہم بھول نہ پائے [Verse 2] فضاؤں میں کچھ خوشبو ہے یادوں کی جزبوں میں جوش ہے سایہ تیرا ہر جگہ ہے تھوڑی بہت پرانی باتیں ہیں [Chorus] باتیں وہی پرانی ہیں رنگ نئے سے تم تھے یا کوئی خواب تھا رات کے قصے دکھاتے تھے جو خواب ہم بھول نہ پائے [Bridge] چاندنی رات وہ کہانیاں میرے دل کی یہ حالتیں تاریخ میں جا کے جو ملتی ہیں وہ یادیں اب بھی سنتے ہیں [Chorus] باتیں وہی پرانی ہیں رنگ نئے سے تم تھے یا کوئی خواب تھا رات کے قصے دکھاتے تھے جو خواب ہم بھول نہ پائے

