[Verse] رو رہا ہوں ایک مدت سے ہو گیا تھا عشق شدت سے یاد آئی وہ حسین راتیں جن میں تھی خوشبو لہرتی [Verse 2] دور وہ شامیں جل رہی ہیں میری تنہائی بڑھ رہی ہیں خوابوں میں بھی دکھ ہے آیا تیری یادیں بن گئی ہیں سایا [Chorus] اشکوں کی بارش مسلسل ہے ہر لمحہ تو میرے دل میں ہے کیسے کر دوں تجھ کو میں معاف زندگی بن گئی ہے ایک عذاب [Bridge] تیری مسکان میں کھو گیا تھا ہر پل میں خواب میں سویا تھا اب تیرے بغیر یہ زندگی نامکمل ادھورا سا خواب [Verse 3] یادیں تیری ہیں جیسے صبح چھا گئی ہیں دل پر وہ رہ کہاں جا کے بولو خود کو سنبھالوں یکی میں تیرے بن خود کو کیا پالوں [Chorus] اشکوں کی بارش مسلسل ہے ہر لمحہ تو میرے دل میں ہے کیسے کر دوں تجھ کو میں معاف زندگی بن گئی ہے ایک عذاب