
[Verse] ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم جلتے چراغوں کی مدھم روشنی گم ہو رہی ہے یہ سرکشی ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم [Verse 2] خوابوں کی دیواریں جھکنے لگیں آسار کے سائے چھپنے لگیں کیا ہوگیا شہر کا سکون سنسان راتوں کا پراسرار موزون ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم [Chorus] چیخیں سنائی دیں گی کہیں دھواں اڑتا ہے رات کا زمیں یہاں بس یہی وہ عقیدہ ہے چھوٹتا ہوا یہ دل کا قصیدہ ہے ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم [Verse 3] شور ہے مگر سننے والا نہیں آوازوں کا جال بچھا رہا کہیں یہاں صبر کی ہر حد پار ہوئی ڈی چوک کا منظر ہی موت کا چوک ہوئی ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم [Bridge] تاریکیوں میں چھپی یہ روشنی کسی نے نہ سمجھی یہ ناراضگی کہاں چلے گئے وہ خواب سبھی دیوار محبت کی ٹوٹنے لگی ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم [Chorus] چیخیں سنائی دیں گی کہیں دھواں اڑتا ہے رات کا زمیں یہاں بس یہی وہ عقیدہ ہے چھوٹتا ہوا یہ دل کا قصیدہ ہے ڈی چوک بن گیا موت کا چوک ہر طرف خاموشی ہر طرف ماتم

